Accessibility Page Navigation
Style sheets must be enabled to view this page as it was intended.
The Royal College of Psychiatrists Improving the lives of people with mental illness

الکحل اور ڈپریشن

Alcohol and Depression

 

 

Trouble reading these pages?

 

 

الکحل دماغ پہ کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟

ٹولرنس (Tolerance)

 

الکحل کا دماغ پہ اثر کئی اور نشہ آور اشیا مثلاً سکون آور ادویات  کی طرح  ہی ہوتا ہے۔ اگر باقاعدگی سے الکحل پی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے اور مطلوبہ اثر حاصل کرنے کے لیے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ یہ عمل  'ٹولرنس' کہلاتا ہے اور الکحل  کا عادی بننے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

الکحل درج ذیل مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے:

ڈیمینشیا: الزائمر ڈمینشیا سے ملتی جلتی یادداشت کی کمزوری

 

سائیکوسس:  زیادہ مدت تک الکحل پینے والوں کو اکیلے میں آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں

 

 عادی ہو جانا:  اگر الکحل پینا اچانک بند کر دیا جائے تو  نشہ اچانک چھوڑنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں مثلاً کانپنا، اعصابی دباؤ اور کبھی کبھار ایسی چیزیں دیکھنا جو حقیقت میں وہاں موجود نہ ہوں۔

 

خودکشی: خودکشی کی کوشش کرنے والے مردوں کی چالیس فی صد تعداد ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو طویل عرصے سے الکحل کے عادی ہوں۔ خودکشی میں کامیاب ہونے والے ستر فی صد افراد وہ ہوتے ہیں جنھوں نے اس عمل سے پہلے الکحل پی ہوتی ہے۔

ڈپریشن اور الکحل میں کیا تعلق ہے؟

 خود کو نقصان پہنچانا اور خودکشی ان لوگوں میں زیادہ عام ہے جو الکحل زیادہ پیتے ہیں۔ یہ عمل دو طرح سے ہوتا ہے:

 

· اگر بہت زیادہ الکحل باقاعدگی سے پی جائے تو اس بات کا امکان ہے کہ ایسا شخص ڈپریشن میں مبتلا ہوجائے۔

 

باقاعدگی سے الکحل پینا  تھکن اور ڈپریشن پیدا کرتا ہے۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ الکحل دماغ کی کیمیائی حالت میں تبدیلی پیدا کرتی ہے جس سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

الکحل زیادہ پینے کے بعد انسان صبح اٹھتا ہے تو  بیداری کے وقت طبیعت مضمحل ہوتی ہے، اور پریشانی، ہیجان اور پسشیمانی محسوس ہوتی ہے۔

 

الکحل  کےعادی افراد میں ڈپریشن، گھر والوں کے ساتھ جھگڑے، کام کے دوران خراب کارکردگی، یادداشت کی کمزوری اور جنسی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

 

· اینگزائٹی اور  ڈپریشن کو کم کرنے کے لیے الکحل پینے سے ڈپریشن میں مزید اضافہ ہوجاتا  ہے۔

 

الکحل مسائل کو تھوڑی دیر کے لیے بھلانے میں مدد کرتی ہے۔  یہ پرسکون ہونے اور جھجک کو ختم کرنے میں بھی مددکرسکتی ہے۔ الکحل پینے سے شراب خانے، کلب یا کسی پارٹی میں گفتگو کرنا آسان اور  دلچسپ ہوجاتا ہے۔ اس سے انسان کچھ گھنٹوں کےلیے بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔

 

 اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں یا   توانائی میں کمی محسوس کر رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ  زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے  آپ الکحل پینے کے بارے میں سوچیں۔ کوئی بھی شخص بہت  آسانی سے اس عادت میں مبتلا ہوسکتا ہے اور الکحل کو دوا کی طرح استعمال کرسکتا ہے

  ۔ تاہم الکحل کے فوائد جلد ہی ختم ہوجاتے ہیں، الکحل کی عادت معمول کا حصہ بن جاتی ہے اورخوشگوار اثرات کے حصول کے لیے الکحل کی مقدار ہر کچھ عرصے کے بعد بڑھاتے رہنا پڑتا ہے۔

الکحل کی کتنی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے؟

الکحل کی کچھ اقسام زیادہ تیز ہوتی ہیں۔پینے کی مقدار جاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ الکحل کے "یونٹ" گن لیے جائیں۔ ایک یونٹ دس گرام الکحل کے برابر ہوتا ہے, یونٹ شراب خانے میں استعمال ہونے والے  ایک  معیاری پیمانے مثلاً نارمل بیئر کے آدھے  پا ئنٹ یا  وائن کے چھوٹے یا بڑے گلاس کے برابر ہوتا ہے۔

 

اگر یکساں وزن والا مرد اور الکحل یکساں مقدار میں پیئیں تو عورت کے جسمانی اعضا میں مرد کی بہ نسبت الکحل کی مقدار زیادہ ہوگی۔  عورتوں کے لیے وہ حد جس کے بعد جسمانی بیماریوں کا خطرہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے چودہ یونٹ فی ہفتہ ہے جبکہ مردوں کے لیے اکیس یونٹ فی ہفتہ ہوتی ہے۔

ایک ساتھ بہت زیادہ الکحل پینا

(Binge drinking)

 

آپ ایک ساتھ کتنی الکحل استعمال کرتے ہیں یہ بات بھی بہت اہم ہے۔ "محفوظ حد" سے یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ  الکحل بیک وقت نہیں بلکہ پورے ہفتے کے دوران پی گئ ہے۔ جسمانی بیماریوں کے حساب سے محفوظ یہ ہوگا کہ ایک دن میں مرد چار یونٹ سے زیادہ اور عورتیں تین یونٹ سے زیادہ الکحل استعمال نہ کریں۔  ایک دن میں مردوں کا آٹھ یونٹ سے زیادہ یا عورتوں کا چھ یونٹ سے زیادہ استعمال "بنج ڈرنکنگ" کہلاتا ہے۔

 

اس بات کےشواہد موجود ہیں کہ کچھ دن کی بنج ڈرنکنگ کے بعد ہی دماغ کے خلیات مرنا شروع ہوجاتے ہیں پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ عمل صرف  ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو طویل عرصے تک باقاعدگی سے الکحل پیتے  ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بنج ڈرنکنگ سے درمیانی عمر کے افراد میں جلد اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

میں کتنی الکحل پی رہا ہوں؟

ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی الکحل  پینےکی عادت کے بارے میں غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ اس کا صحیح اندازہ لگانے کا  طریقہ یہ ہے کہ ایک ڈائری رکھی جائے جس میں آپ ایک ہفتے کے دوران استعمال ہونے والی الکحل کی مقدار نوٹ کریں ۔  اس سے آپ کو واضح اندازہ ہوجائے گا کہ کہیں آپ حد سے زیادہ الکحل تو نہیں پی رہے۔ اس سےان خطرناک مواقع کی بھی نشاندہی ہوجائے گی مثلاً وہ وقت،  جگہ یا لوگ جن کے ساتھ آپ زیادہ الکحل پیتے ہیں۔

ڈائری

دن  کتنی مقدار  کب  کہاں   کس کے ساتھ   یونٹ  ٹوٹل

پیر

منگل

بدھ

جمعرات

جمعہ

ہفتہ

اتوار

ہفتے کا ٹوٹل

 

خطرے کی علامات

 

  آپ غصے، فرسٹریشن، اینگزائٹی یا ڈپریشن جیسی کیفیات کا مقابلہ کرنے کے لیے الکحل کا باقاعدگی سے استعمال کر نے لگیں۔

 

 ۔آپ زیادہ بااعتماد محسوس کرنےکے لیے باقاعدگی سے الکحل پینے لگیں۔

 

 آپ کو نشہ ٹوٹنے کے اثرات اکثر محسوس ہونے لگیں۔

 

 الکحل  پینے کی عادت دوسرے لوگوں سے آپ کے تعلقات پر اثر انداز ہونے لگے۔

 

 الکحل آپ میں برہمی، غصے یا خودکشی کے جذبات پیدا کرنے لگے۔

 

 دوسرے لوگ آپ کو بتانے لگیں کہ الکحل پینے کے بعد آپ مایوس یا  تلخ ہوجاتے ہیں، یا مارنے پیٹنے پہ اتر آتے ہیں۔

 

 نارمل کیفیت میں رہنے کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ مقدار میں الکحل پینے کی ضرورت پڑنے لگے۔

 

 الکحل  پینےپر زیادہ وقت صرف کرنے کے لیے آپ دوسرے کام کرنا چھوڑ دیں۔

 

 رات کو الکحل پینے کے بعد اگلی صبح آپ گھبراہٹ اور بدن میں کپکپاہٹ کا شکار ہونے لگیں۔

 ان کیفیات کو ختم کرنے کے لیے آپ مزید الکحل پینے لگیں۔

 

· آپ صبح اٹھتے ہی الکحل پینا شروع کردیں۔

اگر کسی زیادہ مقدار میں الکحل پینے کی عادت پڑ رہی ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟

 اپنی روزانہ الکحل کے استعمال کی  مقدار کو کم کرنے کے لیے ایک مخصوص حد مقرر کریں۔

ایسے مواقع سے پرہیز کریں جن میں آپ کے الکحل پینے کا خطرہ زیادہ ہو (ڈائری کا جائزہ لیں)۔

ایسے کاموں کے بارے میں سوچیں جنھیں آپ الکحل پینے کے متبادل کے طور پر اختیار کرسکتے ہیں۔

 

اپنے شریک حیات یا دوستوں سے مشورہ  کریں۔ وہ ٹارگٹ کے انتخاب اور اسے حاصل کرنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔

 

یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ اپنے فیملی ڈاکٹر سے مشورے کے بعد الکحل پینے کی مقدار کم کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ بغیر کسی مدد کے فوراً الکحل پینا چھوڑسکتے ہیں،  جبکہ کچھ افراد کو الکحل پینا چھوڑنے کی علامات مثلاً الکحل پینے کی شدید خواہش، جسم کا لرزنا اور  گھبراہٹ بے چینی جیسی کیفیات کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو آپ کا سائکائٹرسٹ آپ کی مدد کرسکتا ہے۔

الکحل پینا چھوڑنا اور ڈپریشن

  اس بات کی شہادت موجود ہے کہ زیا دہ الکحل پینے والے بہت سے افراد الکحل پینے کے دوران ڈپریس ہوتے ہیں تاہم نشہ چھوڑنے کے چند ہفتوں کے دوران وہ بہتر محسوس کرتے ہیں۔  اس لیے بہتر  ہوگا کہ پہلے الکحل چھوڑنے پر توجہ دی جائے اور اگر چھوڑنے کے چند ہفتوں کے بعد بھی ڈپریشن ختم نہ ہو تو پھر اس کا علاج کیا جائے۔ الکحل چھوڑنے کے چند ہفتوں بعد آپ اپنے آپ کو فٹ اور نسبتاً کم ڈپریسڈ محسوس کریں گے۔ دوستوں اور خاندان کے افراد کو آپ سے بات چیت کرنا آسان لگے گا۔ اگر ڈپریشن کے احساسات ختم ہوجاتے ہیں تو اس کا  مطلب یہ ہوسکتا ہےکہ اس کا تعلق الکحل پینے سے تھا۔

 

اگر الکحل چھوڑنے کے چار ہفتے بعد بھی آپ کو ڈپریشن رہتا ہے تو  مزید مدد کے لیے اپنے سائکائٹرسٹ  سے رابطہ کریں۔ اپنے جذبات سے متعلق بات کرنا سود مند ہوگا خاص طور پر اگر آپ کے ڈپریشن کا تعلق گھریلو مسائل، بے روزگاری، طلاق، کسی عزیز کی موت کا صدمہ یا دیگر نقصانات سے ہو۔  صلاح ومشورہ اس ضمن میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

 

اگر ڈپریشن کی شدت زیادہ ہو اور اس کا خاتمہ نہ ہورہا ہو تو  آپ کا سائکائٹرسٹ باتوں کے ذریعے طریقہ علاج 'کوگنیٹیو سائیکوتھیراپی' یا اینٹی ڈپریسنٹ ادویات تجویز کرسکتا ہے۔ ان دونوں صورتحال میں آپ کو الکحل سے دور رہنا ہوگا اور آپ کا علاج کئی ماہ تک جاری رہے گا۔ الکحل کی طلب کم کرنے کے لیے کئ ادویات دستیاب ہیں تاہم انھیں کوئی سائکائٹرسٹ  ہی تجویز کرسکتا ہے۔

 

الکحل پینے کے مسائل اور ڈپریشن دونوں کے علاج بہت کامیاب ہوسکتے ہیں۔باقاعدگی سے  کسی قابل اعتماد شخص سے ملنا مفید ہوسکتاہے چاہے وہ آپ کا معالج ہو ، کاؤنسلر ہو یا خصوصی نفسیاتی امراض کا ماہر  ہو۔ عادات یا طرز زندگی کو تبدیل کرنا ایک چیلنچ ہوتا ہے اور اس کے حصول میں وقت لگتا ہے۔

 

یہ کتابچہ رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

www.rcpsych.ac.uk/info

اور ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی

www.aku.edu/medicalcollege/psychiatry/index.shtml

کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

 

مدیر: ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک)

نظرَثانی: ڈاکٹر مراد موسیٰ خان (ایم آر سی سائیک)

 


Produced by the RCPsych Public Education Editorial Board.

Series Editor: Dr Philip Timms.

Translated by: Ms Saira Yasin, Prof. M Khan & Dr Syed Ahmer

Original version dated: 2007

Translation date: January 2008


© [2008] Royal College of Psychiatrists. This leaflet may be downloaded, printed out, photocopied and distributed free of charge as long as the RCPsych is properly credited and no profit is gained from its use. Permission to reproduce it in any other way must be obtained from the Head of Publications. The College does not allow reposting of its leaflets on other sites, but allows them to be linked to directly.

For a catalogue of public education materials or copies of our leaflets contact:
 RCPsych logo


 Leaflets Department
 The Royal College of Psychiatrists
 17 Belgrave Square
 London SW1X 8PG
 Telephone: 020 7235 2351 x259
 

Charity registration number 228636 


This page maintained by Dr Syed Ahmer MRCPsych & Mr Muhammad Zaman Khan MA. Dept of Psychiatry, Aga Khan University, Karachi.  If you have any suggestions for this web page, please email us at: webmaster@rcpsych.ac.uk

 

Login
Make a Donation