Accessibility Page Navigation
Style sheets must be enabled to view this page as it was intended.
The Royal College of Psychiatrists Improving the lives of people with mental illness

رائل کالج آف سائیکاٹرسٹس کی طرف سے ذہنی صحت کے بارے میں اردو میں معلومات

اپنے آپ کو اذیت  پہنچانا

Self-harm

اپنے آپ کو اذیت پہنچانا کیا ہے؟

اپنے آپ کو اذیت پہنچاناوہ عمل ہے جب کو ئی جان بوجھ کر خود  کو تکلیف پہنچا تا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے۔  اس کے بہت سارے زرائع ہو سکتے ہیں:

 

  • زیادہ مقدار میں ادویات کے استعمال سے
  • اپنے آپ کو کاٹنے سے
  • اپنے آپ کو جلانے سے 
  • سر کو پٹخنے سے 
  • اپنے جسم کو سخت چیز سے ٹکرانے سے 
  • اپنے آپ کو مارنے سے 
  •  کسی سخت چیز کو جسم میں گھونپنے سے 
  • غلط چیز نگلنے سے 

 

دوسرے لوگوں کو یہ محسوس ہو سکتا ہے کہ لوگ ٹھنڈے دل سے اور دانستہ طور پر شاید طبیعت کی قنوطیت کی وجہ سے ایسے قدم اٹھاتے ہیں۔ دراصل  جو لوگ بھی اپنے آپ کواذیت پہنچاتے ہیں وہ سخت پریشانی، اذیت، افسردگی، رنجیدگی اور ناقابل برداشت اندرونی ہیجان کے زیر اثر ایسا  کرتے ہیں۔ کچھ لوگ منصوبہ بنا کر کرتے ہیں، کچھ اچانک کر ڈالتے ہیں۔  کچھ لوگ ایک یا دو مرتبہ ہی اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں، کچھ بار بار ایسا کرنے لگ جاتے ہیں، یوں یہ ایک خطرناک عادت بن جاتی ہے۔

 

ہم میں سے کچھ لوگ غیر واضح مگر خطرناک طریقے سے خود کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ایسا رویہ اختیار کریں جو ظاہر  کرے کہ ہمیں زندگی اور موت کی زیادہ پرواہ نہیں رہی مثلاّ ہم اندھا دھند غیر  ذمہ دارانہ ادویات استعمال کر سکتے ہیں، غیر محفوظ طریقے سے جنسی فعل میں ملوث ہو سکتے ہیں یا  بہت زیادہ شراب پی سکتے ہیں۔  کچھ لوگ بالکل کھانا کھاناچھوڑ دیتے ہیں۔

اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے عمل کے لیے اور کون سے لفظ استعمال کیے جاتے ہیں؟

خود کو اذیت پہنچانے کے عمل کے لیے  کچھ دوسرے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں لیکن یہ مکمل طور پر درست نہیں، مثلاّ

 

  • دانستہ خود کو اذیت پہنچانا۔

 

یہاں  "دانستہ "کا لفظ زیادہ مددگار نہیں کیونکہ اس سے لگتا ہے کہ جیسے خود کو اذیت دینے کا عمل شاید تکلیف دہ احساسات کا براہ راست ردِ عمل ہو۔

 

  • خود کشی یا خود کشی جیسا عمل۔

 

  یہ اصطلاح بھی غیر مناسب ہے کیونکہ خود کو اذیت پہنچانے والے بہت سے لوگ دراصل اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں چاہتے۔

اپنے آپ کو کون اذیت پہنچاتا ہے؟

  کبھی نہ کبھی ہر دس میں سے ایک جوان شخص اپنے آپ کو اذیت پہنچاتا ہے۔ یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔

 

  • یہ فعل جوان مردوں کے مقابلے میں جوان عورتوں میں زیادہ ہے۔ 
  • ہم جنس پرست لوگوں میں اپنے آپ کواذیت پہنچانے کا اندیشہ زیادہ ہو تا ہے۔ 
  • بسا اوقات جوان لوگ گروہ کی صورت میں اپنے آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ اگر آپ کا 
  •  دوست اپنے آپ کو اذیت پہنچاتا ہے تو اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ آپ بھی اپنے آپ کو اذیت پہنچائیں۔ 
  • کچھ گروہوں میں اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کا عمل زیادہ پایا جاتا ہے، مثلاّ یورپ  
  •  میں "گوتھ "لوگوں میں اسکا رجحان زیادہ ہے۔
  •   وہ لوگ جو اپنے آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں ان میں اس بات کا امکان زیادہ ہو تا  ہے کہ

 بچپن میں ان کے ساتھ جسمانی، جذباتی یا جنسی تشدد ہوا ہو۔

 

تحقیق کے زریعے جو اعداد شمار سامنے آتے ہیں حقیقتاً اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کی شرح غالباً  اس سے زیادہ ہے اور سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معاشرے  یا اسکول میں اپنے آپ کو اذیت پہنچانے والوں کی تعداد بہ نسبت اسپتال کے زیادہ ہے۔ اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کی کچھ اقسام جیسے کاٹنا غالباًچھپا ئی جاتی ہیں اس لئے شاید دوسرے لوگوں کی نظروں کے سامنے بھی کم آتی ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق چار ہزار اشخاص جو اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کی وجہ سے اسپتالوں میں لائے گئے تھے ان میں سے  ۸۰ فیصد نے ادویات زیادہ مقدار میں استعمال کی ہو ئی تھیں اور  تقریباّ  ۱۵ فیصد نے اپنے آپ کو کاٹا ہوا تھا ۔ کمیونٹی میں شائد یہ اعدادوشمار اس کے برعکس ہیں یعنی زیادہ لوگ اپنے آپ کو کاٹتے ہیں اور کم لوگ ادویات کا زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔

لوگ اپنےآپ کو اذیت کیوں پہنچاتے ہیں۔

جذباتی تکالیف : خود کو  اذیت پہنچانے کے عمل سے پہلے لوگ کچھ عرصے تک درپیش مشکلات کا خود مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشکلات کی صورت مندرجہ ذیل ہو سکتی ہے۔

  • جسمانی یا جنسی تشدد
  • موڈ مستقل اداس (ڈپریس) رہنا
  • اپنے آپ کو  برا سمجھنا
  • اپنے دوست، ازدواجی ساتھی، رشتے دار، گھرانہ یا خاندان کے ساتھ تعلقات کشیدہ

ہو نا۔

     

:اگر آپ ایسا محسوس کرتے ہیں

 

  • کہ لوگ آپ کی بات نہیں سنتے 
  • آپ مایوس ہیں 
  • آپ تنہائی محسوس کرتے ہیں 
  • آپ بے قابو ہو جاتے ہیں 
  •   بے بسی محسوس کر تے ہیں، ایسا محسوس ہو تا ہے کہ آپ موجودہ حالات کو

     بدلنے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔

  • منشیات یا الکحل کا استعمال کرتے ہیں، ایسا محسوس ہو تا ہے کہ یہ چیزیں بھی 

 آپ  کی باقی زندگی کی طرح  آپ کے بس سے باہر  ہیں ۔

  • آپ کسی دوسرے فرد کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کتنے پریشان ہیں، ان سے بدلہ لینا 

 چاہتے ہیں، یا  ان کو سزا دینا چاہتے ہیں۔ عام طور سے ایسا نہیں ہوتا۔ زیادہ تر لوگ خاموشی سے برداشت کرتے ہیں اور تنہائی میں اپنے آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔

آپ  اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کے بعد کیا محسوس کر تے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ خود کو اذیت دینے کا عمل آپ کو اپنے آپ کو قابو میں محسوس کرنے کا احساس دے اور اس طرح جذباتی تکلیف اور پریشانی کو کم کرے۔اگر آپ احساسَ ندامت کا شکار ہیں تو خود کو اذیت دینے کا عمل خود کو  سزا دینے اور احساسَ ندامت کو کم کرنے کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ بہر حال یہ جذباتی تکلیف سے نجات پانے کا آسان طریقہ بن جاتا ہے۔

کیا  اپنے آپ کو اذیت پہنچانے والے نفسیاتی مریض ہو تے ہیں۔

اپنے آپ کواذیت پہنچانے والے زیادہ تر لوگ  نفسیاتی مریض نہیں ہوتے لیکن کچھ لوگ ڈپریشن کے مریض ہو سکتے ہیں ، کچھ  لوگوں میں بیماری کی حد تک شخصی کمزوریاں ہو سکتی ہیں اور  کچھ کو منشیات یا الکحل کی عادت ہو سکتی ہے۔ بہر حال ان سب کو   مدد کی ضرورت ہو تی ہے ۔ ان لوگوں کےاس  عمل کو سنجیدگی سے لینا چائیے اور مدد کرنے کی کو شش کرنی چاہئیے۔

مدد حاصل کرنا۔

اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والوں میں بہت سے لوگ مدد طلب نہیں کرتے۔ گو انکو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے مسئلے سے دوچار ہیں مگر وہ یہ  محسوس  کرتے ہیں  کہ وہ کسی کو اس مسئلے کے بارے میں نہیں بتا سکتے ، اس لیے وہ اپنے دوستوں ، رشتہ داروں یا اس شعبے کے ماہرین سے رجوع نہیں کرتے۔

 

کچھ لوگ اس کو اہم مسئلہ تصور نہیں کرتے،  وہ اس کو مسائل سے نپٹنے کا ایک زریعہ سمجھتے ہیں لیکن مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ خود کو اذیت پہنچا کر ہسپتال تک پہنچنے والوں میں سے صرف نصف تعداد اس شعبے کے ماہرین تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔   آپکا سائکاٹرسٹ سے رابطہ ہو نے کا امکان کم ہو جاتاہے اگر آپ جوان ہیں،  آپ نے اپنے آپ کو کاٹا ہے، یا ادوویات زیادہ مقدار میں استعمال کی ہیں۔

خطرے کی علامات

وہ لوگ جن میں شدید طریقے سے اپنے آپ کواذیت پہنچانے کے امکانات زیادہ ہیں۔

  •  جو خطرناک یا شدید طریقہ اختیار کریں؛ 
  •  باقاعدگی سے اپنے آپ کو نقصان پہنچائیں؛ 
  •  سماجی طور پر تنہا ہوں؛ 
  •  جن کو کوئی ذہنی مرض لاحق ہو۔ 

ان لو گوں کا اس شعبہ کے ماہرین یا سائیکاٹرسٹ سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔

 

کس طرح کی مدد دستیاب ہو سکتی ہے۔

غیر پیشہ ور (یعنی جو سائیکاٹرسٹ/سائیکا لو جسٹ نہ ہوں) لوگوں سے گفتگو کرنا۔

کچھ لوگوں کے لئے یہ مددگار ثابت ہو تا ہے کہ وہ اپنا تعارف کرائے بغیر  کسی نا معلوم شخص  سے  اس بارے میں بات کر لیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ محض یہ احساس کہ کوئی دوسرا شخص آپ کے احساسات سے آگاہ ہےآپ کے احساسََ تنہائی کو کم کر سکتا ہے۔  ہو سکتا ہے کہ مسائل کے کچھ ایسے حل سامنے آجائیں جو کہ آپ پہلے سوچنےمیں کامیاب نہیں ہوئے۔آپ اس قسم کی مدد  انٹرنیٹ یا ٹیلی فون کے زریعے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔رابطے کے لیے کچھ پتے اس کتابچے کےانگریزی ورژن کے  آخر میں دیکھیں۔

سیلف ہیلپ (اپنی مدد آپ) گروپ

۔بعض مخصوص گروہ بھی تشکیل پاتے ہیں جن میں اپنے آپ کو اذیت پہنچانے والے باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو جذباتی طور پر سہارا دیتے  ہیں اور قابل عمل مشورے دیتے ہیں۔ اپنی پریشانیاں اور مسا ئل ایک گروپ کے ساتھ بانٹنے سے آپ اپنے آپ کو اکیلا محسوس نہیں کرتے،  گروپ کے باقی افراد  بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔

باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے مدد

اپنے آپ کواذیت اکثر اوقات قریبی رشتوں میں مسا ئل کی وجہ سے بھی پہنچائی جاتی ہے۔ اس صورت میں رشتوں (رشتے داریوں) میں مسا ئل حل کرنا ضروری ہے۔

ماہر ین سے بات کر یں

وہ لوگ جو مسا ئل سے فرار حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں، مندرجہ ذیل طریقوں سے بھی ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔

  1. Problem Solving Therapy
  2. Cognitive Psychotherapy
  3. Psychodynamic Psychotherapy
  4. Cognitive Behavior Therapy

 

گھریلو  (فیملی) افراد کے ساتھ ماہرین سے مشترکہ گفتگو

جہاں ممکن ہو  گھریلو افراد کے ساتھ ماہرین سے مشترکہ گفتگو بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے گھریلو ماحول میں موجود تناؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔

گروپ کی صورت میں علاج معالجہ

یہ اپنی مدد آّپ سے مختلف طریقہ ہے۔ اس میں مریضوں کا ایک گروہ (گروپ) کسی ماہر کی رہنمائی میں کام کرتے ہوئے ارکان کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ دوسروں سے اپنے تعلقات بہتر بناسکیں۔

سب سے بہتر طریقہ کون سا ہے؟

اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سا طریقہ دوسروں سے بہتر ہے، مگر جو ریسرچ موجود ہے  اس سے ایسا لگتا ہے کہ پرابلم سولونگ تھراپی (ایسا طریقہ جس میں زندگی کے مسائل کو براہَ راست حل کرنے کی طرف توجہ ہو ) اور طریقوں سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

اگر میں مدد نہیں لوں گا ۔

  •  تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص جو پہلی دفعہ اپنے آپ کو اذیت پہنچاتا ہے

 ایک سال میں دوبارہ ایسا کرتا  ہے۔  

  • تقریباً ہر سو میں سے تین اشخاص جو اپنے آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں اگلے  پندرہ سال  

میں خود کشی کر لیتے ہیں۔ یہ خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں  پچاس گنا زیادہ ہے جو اپنے آپ کو اذیت نہیں پہنچاتے۔ عمر گزرنے کے ساتھ خود کشی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور مردوں میں اس  کا احتمال زیادہ ہو تا ہے۔

  •  کاٹنے سے مستقل نشانات آسکتے ہیں، انگلیوں میں کمزوری ہو سکتی ہے  

 انگلیاں سن ہو سکتی ہیں یا انگلیاں کام کرنے سے معذور ہو سکتی ہیں۔

میں اپنی مدد کیسے کر سکتا ہوں؟

جب آپ کو اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کا خیال آئے

اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے خیالات تھوڑی دیر میں چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ اپنی پریشانی کو بغیراپنے آپ کو  اذیت پہنچا ئے برداشت کر لیں تو وہ پریشانی اگلے چند گھنٹوں میں آسان ہو جائے گی۔

  • آپ کسی سے بات کر سکتے ہیں 
  • اگر آپ اکیلے ہیں تو کسی دوست کو فون کر لیجئے 
  • اگر آپ ایسے شخص کے ساتھ ہیں جس کے ساتھ رہنے سے آپ کو برا محسوس  
  •  ہو گا ، اس جگہ کو چھوڑ دیں
  • باہر جا کر، گنگناکر، موسیقی سن کر، یا کو ئی بھی ایسا کام کر کے جو آپ کو پسند ہو 
  •  اپنی توجہ دوسری طرف لگائیے اپنےآپ کو پرسکون کیجئے او ذہن میں کسی خوشگوار لمحے کا سوچیں
  • اپنے جذبات کے اظہار کا کوئی دوسرا طریقہ ڈھونڈیں جیسے برف کے ٹکڑوں کو  

 مٹھی میں دبانا،( آپ اس کو لال رنگ سے بھی بنا سکتے ہیں تاکہ یہ خون سے ملتے جلتے نظر آئیں اگر خون دیکھنا آپ کے لئے اہم ہے) اپنے جذبات کا اظہار اپنی جلد پر لال لکیریں ڈال کر بھی کر سکتے ہیں

  •  اپنے آپ کو بے ضرر درد پہنچائیں جیسے لال مرچیں کھا کر یا ٹھنڈے پانی سے  

  نہاکر۔

  • اپنے ذہن کی توجہ مثبت پہلو وں پر مرکوز کریں  
  • ایک ڈائری یا خط لکھئے یہ بتانے کے لئے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے 

 کسی اور کو اس بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں۔

  • کوئی ایسا کام کریں جو  آپ کو  اچھا لگے، مثلاً اپنی مالش کروانا۔  

جب اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے خیالات ختم ہو جا ئیں۔

  • جب اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کی  طلب ختم ہو جائے اور آپ اپنے آپ کو محفوظ  

محسوس کریں اس وقت کے بارے میں سو چئے جب آپ نے اپنے آپ کو اذیت پہنچائی  تھی اوراسوقت  کیا عمل مدد گار ثابت ہو سکتا تھا:

 

  •   اپنے ذہن میں اس وقت کے متعلق سو چئے جب آخری دفعہ آپ نے چاہا تھا کہ  

  آپ اپنےآپ کو اذیت نہ پہنچا ئیں پھر وہاں سے اپنی سو چیں آگے بڑھا ئیں۔

  • آپ کہاں تھے ، آپ کے ساتھ کون تھا اور آپ کیا محسوس کر رہے تھے۔  
  • اس بارے میں غور کیجئے کہ آپ نے اپنے آپ  کو اذیت پہنچانے کے بارے میں کیوں  

   سوچا تھا۔

  • کیا اپنے آپ کو اذیت پہنچانے سے آپ کو تحفظ کا احساس یا قابو میں ہو نے کا  

 احساس ہوا تھا؟  ان طریقوں کے متعلق سوچیں جو آپ کو اسی طرح کا احساس دیں لیکن اس میں اذیت رسانی شامل نہ ہو۔

  • دوسرے لوگوں نے کس طرح کا رویہ اختیار کیا تھا۔  
  • آپ نے اپنے احساسات کی تسکین کے لئے کیا کیا تھا۔  
  • کیا آپ کچھ اور کر سکتے ہیں۔  
  •  ایک ٹیپ میں اپنے مثبت پہلو وں کو  ریکارڈ کیجئے کہ آپ اپنے آپ کو کیوں نہیں  

 اذیت پہنچانا چاہتے۔

  • آپ یہ کام کسی قابل شخص کو بھی دے سکتے ہیں، جب آپ پریشانی محسوس کریں  

 آپ ٹیپ کو چلا کر اپنے آپ کو  یا د دہانی کرواسکتے ہیں کہ آپ کے اندر کیا کیا خوبیاں ہیں اور آپ کتنے اہم ہیں۔

  • ایک ہنگامی صورت حال کا منصوبہ بنائے تاکہ آپ خود کو اذیت  پنہچانے کے  

 بجائے کسی سے بات کر سکیں ، کسی سے جلدی رابطہ کر نے سے  خود کو  اذیت پہنچانے کی خواہش پر  قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ بات چیت کے دوران آپ کی خود کو اذیت پہنچانے کی خواہش ختم ہوتی چلی جا ئے گی۔

اگر آپ اپنے آپ کو

اذیت پہنچانا نہیں روک سکتے تو کیا کریں؟

  • اگر آپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ خود کو اذیت پہنچانا  نہیں روکنا چاہتے پھر  

بھی آپ اپنے جسم کو نقصان پہنچانا کم کر سکتے ہیں(مثال کے طور پر صاف بلیڈ:

 ( استعمال کر کے

  • اس بارے میں مستقل سوچتے رہئیے کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو آپ کو اپنے آپ کو   

 اذیت پہنچانے پر مجبور کر تی ہیں۔

  •   وقتاً فوقتاً اپنے آپ کو  اذیت پہنچانا نہ روکنے کے فیصلے پر نظر ثانی کیجئے۔  

 

اپنے آپ کو  اذیت پہنچانا جسمانی اور نفسیاتی طور پر بہت ضرر رساں ہو تا ہے۔  آخر کار اس کو ختم کر نے میں آپ ہی کا فائدہ ہے۔

 

یہ کچھ سوالات ہیں جو اپنے آپ سے پوچھ کر آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا آپ رکنے پر تیار ہیں۔ اگر آپ ایمانداری سے آدھے یا اس سے زیادہ سوالات کا جواب ہاں میں دیتے ہیں تو اپنے آپ کو  اذیت پہنچانے کو ختم کر نے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟

  •  کیا کم از کم دو لوگ ایسے ہیں جو میری مدد کر نے کو تیار ہیں؟  
  • کیا میرے کچھ دوستوں کو میرے اپنے آپ کو  اذیت پہنچانے کے بارے میں علم ہے  

 جن سے میں پریشانی کی صورت میں رابطہ کر سکوں؟

  • کیا مجھے دو ایسے محفوظ متبادل طریقہ کار کا علم ہے جو میرے ان جذبات میں  

 کمی کریں جو مجھے اپنے آپ کو  اذیت پہنچانے کی طرف لیکر جا تے ہیں؟

  •  کیا میں اپنے آپ کو بھروسہ کے ساتھ  کہہ سکتا ہوں  کہ میں اپنے آپ کو خود  کو  

 اذیت پہنچانے سے روکنا چاہتا ہوں؟

  • کیا میں اپنے آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ میں مایوسی، پریشانی اور خوف کے جذبات  

 کو ضرور برداشت کروں گا؟

  • اگر ضرورت ہو تو کیا  مشکل وقت میں میری مدد کرنے کے لئے کو ئی ماہر  

 نفسیات مو جود ہے؟

اگر میں اپنے آپ کو اذیت پہنچاؤں اور مجھے علاج کی ضرورت ہو۔

یہ آپکا حق ہے کہ ڈاکٹر اور نرسیں عزت کے ساتھ  آپ کا علاج شعبہ ہنگامی امداد میں کریں۔  بہت سارے ہسپتالوں کے شعبہ ہنگامی امداد میں ماہر نفسیات کی سہولت مو جود ہے جو کہ آپ سے آپ کی پریشانی کے متعلق بات کر سکتے ہیں اور آپ کو یہ بتا سکتے ہیں کہ آپ کی مدد اور کن طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔وہ آپ کی تمام ضروریات کا جائزہ لے سکتے ہیں اور ان کو باقاعدہ رپورٹ کی صورت میں لکھیں گے۔ آپ بھی اس تمام عمل میں حصہ لے سکتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں جس کو رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ماہرین آپ کے ساتھ مل کر کوئی سوالنامہ پر کریں تا کہ آپ کی حالت کی شدت کا صحیح اندازہ ہو سکے۔

اگر مجھے معلوم ہو کہ کوئی شخص خود کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟

 کسی ایسے شخص کے قریب رہنا جو اپنے آپ کو اذیت پہنچاتا ہو  بہت پریشان کن ہوتا ہے لیکن کچھ چیزیں پھر بھی کی جا سکتی ہیں۔سب سے اہم بات ہےان کو بغیر کسی تنقید کے  سننا ۔ اگر آپ خود اس شخص کے اس رویے سے ناراض یا دلبرداشتہ ہیں تو پھ اس کے لیے کچھ کرنا آپ کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ اپنی جذباتی حالت سے زیادہ مریض کی حالت پہ توجہ دیں گو یہ آسان نہ ہو گا۔

کیا کرنا چاہیے

  • جب وہ خود کو اذیت پہنچانا چاہیں تو ان سے بات کریں۔  ان کے احساسات کو 

 سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر  آہستہ آ ہستہ گفتگو کا موضوع بدل دیں۔

  • خود کو اذیت  پہنچانے کے عمل کو  پراسرار بنانے کے بجائے اس عمل کے بارے 

 میں مزید معلومات حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔ اس کے لیے انٹر نیٹ یا لائبریری سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

  •  مدد حاصل کرنے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔ اگر ضرورت ہو تو آپ

 خود ان کے ساتھ کسی سے مشورہ کے لیے جائیں۔

  •   آپ ان کی مدد اس طرح سے بھی کر سکتے ہیں کہ ان کو یہ سوچنے میں مدد دیں

 کہ وہ اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے عمل کو  ایک شرمناک راز نہ سمجھیں بلکہ ایک مسئلہ سمجھیں جس کا حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔

کیا نہیں کرنا چاہیے

  • ان کا معالج بننے کی کوشش نہ کریں، اس مسئلے کا  علاج کافی پیچیدہ ہوتا ہے اور 

 آپ کے اوپر ان کے  دوست ، ساتھی یا رشتہ دار ہو نے کی حیثیت سے پہلے ہی بہت  ذمہ داریاں ہیں۔

  •  ان سے راتوں رات اس عمل کو چھوڑنے کی امید نہ رکھیں۔ ا ن کا اپنے رویے کو

 بدلناایک مشکل کام ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔ 

  • ان سے تلخی، غصے یا ناراضگی سے پیش نہ آّئیں۔ اس سے ان کی حالت مزید 

 خراب ہو سکتی ہے۔ آپ ان پر ایمانداری سے یہ واضح کردیں کہ ان کے رویے سے آپ پہ کیا اثر ہوتا ہے، لیکن اس کا  اظہار آپ نرمی سے کریں اور اس انداز سے کریں جس سے ان کو پتہ چلے کہ آپ کو ان کی کتنی فکر ہے۔

  •  اگر وہ خود کو  نقصان پہنچانے کی کوشش کریں تو ان کو روکنے کے لیے ان سے

 جسمانی زور آزمائی نہ کریں۔ بہتر ہو گا کہ آپ وہاں سے ہٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ خود کو نقصان پہنچانے کے بجائے آ کے آپ سے بات کریں۔

 ان سے آئندہ خود کو اذیت نہ پہنچانے کا وعدہ نہ لیں اوراپنے  ان کی مدد کرنے کے عمل کو ان کے خود کو اذیت  نہ پہنچانے سے مشروط نہ کریں۔

  •   آپ خود کو ان کے کسی عمل کا ذمہ دار نہ ٹھہرائیں اور یہ بھی نہ سمجھیں کہ  ان کو

 تبدیل کرنا آپ  کی ذمہ داری ہے۔ بہتر ہو گا کہ آپ اپنی معمول کی زندگی جاری رکھیں ۔ اپنے کسی قریبی شخص سے اس معاملے پہ بات کرتے رہیں تا کہ آپ کو سہارا ملتا رہے۔

 

یہ کتابچہ ڈاکٹر راشد خان اور ڈاکٹر فاروق احمد نے اردو میں تر جمہ کیا ہے


RCPsych logo

Produced by the RCPsych Public Education Editorial Board. Series Editor: Dr Philip Timms.

Translated by: Dr Rashid Khan and Dr Farooq Ahmed

Original version dated: 2007.  Translation date: July 2007

 

© [2007] Royal College of Psychiatrists. This leaflet may be downloaded, printed out, photocopied and distributed free of charge as long as the RCPsych is properly credited and no profit is gained from its use. Permission to reproduce it in any other way must be obtained from the Head of Publications. The College does not allow reposting of its leaflets on other sites, but allows them to be linked to directly.

 

For a catalogue of public education materials or copies of our leaflets contact: Leaflets Department, The Royal College of Psychiatrists, 17 Belgrave Square, London SW1X 8PG. Telephone: 020 7235 2351 x259. Charity registration number 228636 


This page maintained by Dr Syed Ahmer MRCPsych & Mr Muhammad Zaman Khan MA. Dept of Psychiatry, Aga Khan University, Karachi.  If you have any suggestions for this web page, please email us at: webmaster@rcpsych.ac.uk


Please note that we are unable to offer advice on individual cases. Please see our FAQ for advice on getting help.

feedback form feedback form

Please answer the following questions and press 'submit' to send your answers OR E-mail your responses to dhart@rcpsych.ac.uk

On each line, click on the mark which most closely reflects how you feel about the statement in the left hand column.

Your answers will help us to make this leaflet more useful - please try to rate every item.

 

This leaflet is:

Strongly agree

Agree

Neutral

Disagree

Strongly Disagree

  Strongly Agree Strongly Agree Agree Neutral Disagree Strongly Disagree Strongly Disagree
Readable
           
Useful
           
Respectful, does not talk down
           
Well designed
           

Did you look at this leaflet because you are a (maximum of 2 categories please):

Age group (please tick correct box)