Accessibility Page Navigation
Style sheets must be enabled to view this page as it was intended.
The Royal College of Psychiatrists Improving the lives of people with mental illness

 

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات

ANTIDEPRESSANTS

 

 

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کیا ہیں؟

یہ ادویات ڈپریشن کی علامات کودور کرتی ہیں۔یہ سب سے پہلےبیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں دریافت کی گئ تھیں اور تب سے مسلسل زیر استعمال ہیں۔آجکل تقریباً تیس کے قریب ادویات مو جود ہیں جو چار بڑی اقسام میں تقسیم کی گئ ہیں۔

 

۱۔ ٹرائی سائکلک اینٹی ڈپریسنٹس

۲۔ مونوامیں آ کسیڈیز انہبٹرز

۳۔ سیلیکٹو سیروٹونن ری اپٹیک انہبٹرز

۴۔ سیروٹونن نارایڈرینلین ری اپٹیک انہبٹرز

 

یہ ادویات کس طرح کام کر تی ہیں؟

ہم یقینی طور پر تو نہیں جانتے لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ ادویات دماغ میں موجود بعض کیمیکلز کی کارکردگی کو بڑھاتی ہیں جنہیں نیورو ٹرانسمیٹرز کہتے ہیں۔ نیورو ٹرانسمیٹرز دماغ کے ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ دو کیمیکلز نارایڈرینلین اور سیروٹونین کا ڈپریشن سے گہرا تعلق ہے۔

 

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کن بیماریوں میں استعمال کی جانی چاہیئیں؟

  • درمیانے درجے سے شدید درجے کا ڈپریشن 
  • شدید گھبراہٹ اور گھبراہٹ کے دورے (اینگزائٹی اور پیَنک اٹیک)
  • وہم کی بیماری (آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر) 
  • طویل عؑرصےرہنے والے درد 
  • ایٹنگ ڈس آرڈرز (وہ بیماریاں جن میں مریض بہت کم یا بہت زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں) 
  • پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر ( شدید صدمےکے بعد پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماری) 

 

اگر آپ کو واضح نہ ہو کہ آپ کو اینٹی ڈپریسنٹ دوا کیوں تجویز کی گئی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کیجیے۔

یہ ادویات کس حد تک کار آمد ہیں؟

تین مہینے کے علاج کے بعد ڈپریشن کے جن مریضوں کو؛

 

  • اینٹی  ڈپریسنٹ دوا دی جائے ان میں سے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک لوگ بہت بہتر ہو جاتے ہیں
  • اسی رنگ کی لیکن اینٹی ڈپریسنٹ اثر نہ رکھنے والی گولی دی جائے ان میں سے پچیس سے تیس

فیصد تک لوگ بہت بہتر ہوتے ہیں

یہ  حیران کن بات لگتی ہے  کہ جن لوگوں کو بے اثر دوا دی جائے ان میں سے بھی کچھ لوگ بہتر ہو جاتے ہیں لیکن ایسا ان تمام ادویات کے ساتھ ہوتا ہے جو ہمارے جذبات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔درد کم کرنے والی ادویات کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔اینٹی ڈپریسنٹ ادویات فائدہ مند تو ہیں لیکن اور بہت ساری ادویات کی طرح ان سے کچھ فائدہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم ان سے فائدے کی امید رکھتے ہیں۔

 

کیا اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے مضر اثرات ہوتے ہیں؟

جی ہاں۔ آپ کے ڈاکٹر کو اس بارے میں آپ کو معلومات دینی چاہیئیں۔ اگر آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہو یا ماضی میں رہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔مختلف طرح کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ساتھ مختلف مضر اثرات ہوتے ہیں۔

 

ٹرائی سائکلکس (مثلا ایمی ٹرپٹیلین، امیپرامین، ڈوتھائیپن، کلومپرامین وغیرہ)

اس گروپ کی ادویات کےعام مضر اثرات میں گلے کی خشکی، ہاتھوں میں کپکپاہٹ، دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، قبض، نیند آنا اور وزن کا بڑھ جانا شامل ہیں۔عمر رسیدہ لوگوں میں یہ ادویات سوچنے میں دشواری، پیشاب کرنے میں رکاوٹ، بلڈ پریشر کم ہو جانے کی وجہ سے چکر آنا اور گر جانے کا سبب بن سکتی ہیں۔اگر آپ کو دل کی بیماری ہے تو بہتر ہو گا کہ آپ اس گروپ کی اینٹی ڈپریسنٹ نہ لیں۔مردوں کو ان ادویات سے جنسی کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ ٹرائی سائکلک اینٹی ڈپریسنٹ ادویات زیادہ مقدار میں لے لینے کی صورت میں خطرناک ہوتی ہیں۔

 

اسپیسیفک سیروٹونن ری اپٹیک انہیبیٹرز (ایس ایس آر آئیز) (مثلا فلو آسٹین، پیرآکسٹینِ ، سرٹرالین، سٹالوپرام وغیرہِ)

جب آپ ان ادویات کو لینا شروع کریں تو ہو سکتا ہے کہ پہلے چند ہفتوں میں آپ کو متلی محسوس ہو اور گھبراہٹ بڑھ جائے۔ اس گروپ کی بعض ادویات سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ ان ادویات کو کھانے کے ساتھ لیں تو اس کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ یہ آپ کے جنسی عمل کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔بعض لوگوں میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ وہ ان ادویات کو لینے سے جھگڑے کرنے لگے لیکن ایسا شاذو نادر ہی ہوا ہے۔

 

سیروٹونن نار ایڈرینلین ری اپٹیک انہیبیٹرز (ایس این آر آئیز) (مثلا وینلافیکسین)

ان ادویات کے مضر  اثرات بھی ایس ایس آر آئیز سے ملتے جلتے ہیں، لیکن اگر آپ کو دل کی شدید بیماری ہو تو آپ کو وینلافیکسین نہیں استعمال کرنی چاہیے۔اس سے بلڈ پریشر بھی بڑھ سکتا ہے اس لیے بلڈ پریشر کو چیک کرتے رہنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔

 

مونو امین آکسیڈیز انہیبیٹرز (ایم اے اوآ ئیز)

اس طرح کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آجکل بہت کم استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ایم اے او آئیز  ایک چیز ٹائرامین کے ساتھ لے لی جائیں تو بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔اگر آپ ایم اے او آئی لینا شروع کریں تو آپ کا ڈاکٹر آپ کو کھانوں کی ایک فہرست دے گا جو آپ ان ادویات کے ساتھ نہیں کھا سکتے۔

 

مضر اثرات کی یہ فہرست پریشان کن لگتی ہے لیکن بیشتر لوگوں کو بہت کم مضر اثرات ہوتے ہیں یا ہوتے ہی نہیں۔ عام طور سے یہ مضر اثرات ہوں بھی تو چند ہفتوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔لیکن آپ کو ان مضر اثرات کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے تا کہ اگر آپ کو یہ ہوں تو آپ ان کو پہچان سکیں اور اپنے ڈاکٹر کو ان کے بارے میں بتا سکیں۔سب سے شدید مضر اثرات مثلا پیشاب میں رکاوٹ ہونا، یاد داشت کمزور ہو جانا ، گرنا،سوچنے میں دشواری ہونا، عام طور سے صحتمند جوان لوگوں میں نہیں ہوتے۔ بہت سے لوگوں کو ڈپریشن میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی جان لے لینے کے خیال آتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر کو بتائیے، جب آپ کا ڈپریشن ٹھیک ہوگا تو یہ خیالات خود ہی ختم ہو جائیں گے۔

 

کیا میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے کے ساتھ گاڑی چلا سکتا ہوں یا مشینری آپریٹ کر سکتا ہوں؟

بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے سے نیند آتی ہے اور آپ کا ردَ عمل  سست ہو جاتا ہے۔ پرانی ادویات سے ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ایسی ہیں جن کو لینے کے ساتھ آپ گاڑی چلا سکتے ہیں۔یاد رکھیے، ڈپریشن کی بیماری سے بھی لوگوں کی توجہ متاثر ہوتی ہے اور حادثات ہونے کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے اس سلسلے میں ضرور مشورہ کریں۔

 

کیا انسان اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا عادی ہو جاتا ہے؟

انسان اس طرح سے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا عادی نہیں ہو سکتا جیسے کہ شراب، سکون آور ادویات یا نکوٹین کا عادی ہوجاتا ہے، مثلا یہ کہ

۔آپ کو فائدے کو برقرار رکھنے کے لیے مقدار کو بڑھاتے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی

۔ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات  کو لینا بند کر دیں تو آپ کو ان کی طلب پیدا نہیں ہو گی

 

لیکن جو لوگ ایس ایس آر آئیز کو لینا بند کرتے ہیں ان میں سے تقریبا ایک تہائی کو  پیٹ کی خرابی، زکام کی طرح کی علامات، گھبراہٹ، چکر آنا، ۔گہرے یا ڈراؤنے خواب آنا، بدن میں بجلی کے شاک جیسی حسیات پیدا ہونا جیسی تکلیف دہ علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز بند کرنے سے بہت ہی کم تکلیف دہ علامات پیدا ہوتی ہیں، لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔دوا بند کرنے پہ ان  تکلیف دہ علامات کا سب سے زیادہ امکان پیروکسیٹین اور وینلافیکسین کے استعمال سے ہوتا ہے۔ عام طور سے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو آہستہ آہستہ بند کرنا اچانک بند کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

 

ایس ایس آر آئیز، خود کشی کے خیالات اور کم عمر لو گ

اس بات پہ کچھ ریسرچ موجود ہے کہ بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے سے بچوں او ر ٹین ایج لوگوں میں خود کشی کے خیالات بڑھ جاتے ہیں(گو کہ خود کشی کے واقعات نہیں بڑھتے) اسی لیے بعض ممالک میں اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کو  ایس ایس آر آئیز دینے کی اجازت نہیں ہے۔ برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلینیکل ایکسی لینس کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لوگوں کو ایس ایس آر آئیز میں سے  صرف  فلو آکسٹین دی جا سکتی ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں ایس ایس آر آئیز لینے سے اپنے آپ کو نقسان پہنچانے  کا خطرہ یا خود کشی کے خیالات بڑھتے ہیں۔

 

کیا حاملہ خواتین  اینٹی ڈپریسنٹ  ادویات لے سکتی ہیں؟

بہتر ہوتا ہے کہ حمل کے زمانے میں، خصوصا پہلے تین مہینے میں کم از کم دوائیں لی جائیں۔ حال ہی میں کچھ ریسرچ آئی ہے کہ جن ماؤں نے حمل کے زمانے میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لی تھیں ان کے بچوں میں لچھ پیدائشی نقص تھے۔لیکن کچھ ماؤں کے لیے حمل کے زمانے میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینا ضروری ہوتا ہے اوریہ دیکھنا پڑتا ہے کہ دوائیں لینے میں زیادہ خطرات ہیں یا نہ لینے میں زیادہ خطرات ہیں۔اس وقت تک ہماری جتنی معلومات ہیں اس کے مطابق زچگی کے دوران لینے کے لیے فلوآکسٹین سب سے محفوظ اینٹی ڈپریسنٹ ہے۔  

 

 اس بات کا بھی ریسر چ سے کچھ ثبوت ملتا ہے کہ وہ نوزائدہ بچے جن کی مائیں حمل کے دوران اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتی رہی ہیں انھیں پیدائش پر دوا اچانک بند ہونے کے مضر اثرات ہو سکتےہیں۔ان تکلیف دہ اثرات کا امکان پارآ کسیٹین نامی دوا سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔۔

 

کیا بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لے سکتی ہیں؟

بہت سی خواتین کو بچوں کی پیدائش کے بعد ڈپریشن ہوجاتا ہے جسے پوسٹ نیٹل ڈپریشن (بچے کی ولادت کے بعد ڈپریشن) کہا جاتا ہے۔ عام طور سے یہ ڈپریشن کونسلنگ اور عملی مدد سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ ڈپریشن شدید ہو جائے تو مائیں تھکی تھکی رہتی ہیں، بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ سکتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ نوزائیدہ بچے کے ساتھ ان کا تعلق صحیح طور سے نہ جڑے اور ہو سکتا ہے کہ بچے کی نشو نما صحیح رفتار سے نہ ہو۔ایسی صورت میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

دودھ پینے والے بچے پہ اس کی ماں کے اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟

دودھ پینے والے بچے میں ماں کے دودھ سے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کی بہت ہی کم مقدار منتقل ہوتی ہے۔ چند ہفتوں سے زیادہ عمر والے بچوں کے جگر اور گردے بالکل صحیح کام کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ وہ دوا کو اپنے بدن سےخارج کرنےکے قابل ہوتے ہیں اس لیے انھیں دوا سے بہت کم خطرہ ہوتا ہے۔ بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات مثلاً سرٹرالین ماں کے دودھ میں بہت ہی معمولی مقدار میں خارج ہوتی ہیں۔ اس معاملے میں  اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کر لیں۔ ماؤں کے بچوں کو دوھ پلانے سے جتنے فائدے ہوتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے بہتر یہی ہے کہ مائیں اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے کے ساتھ دودھ پلانا جاری رکھیں۔

 

اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کس طرح لی جانی چاہیئیں؟

  • اپنے ڈاکٹر کو دکھاتے رہیں۔ٹرائی سائکلکس کو عام طور سے کم مقدار سے شروع کر کےشروع کے

 چند ہفتوں میں  آہستہ آہستہ بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ پہلی دفعہ کے بعد ڈاکٹر کو دوبارہ نہ دکھائیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ بہت کم دوا لے رہے ہوں۔ ایس ایس آر آئیز کو آہستہ آہستہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ جس مقدار میں دوا شروع کرتے ہیں عام طور سے بعد میں بھی اسی مقدار کو لینے کی ضرورت  ہوتی ہے۔ دوا کو بتائی گئی مقدار سے زیادہ مقدار میں لینے سے فائدہ نہیں ہوتا۔

  • اگر آپ کو شروع میں دوا سے کچھ تکلیف دہ اثرات ہوں تو زیادہ پریشان نہ ہوں۔ زیادہ تر تکلیف دہ

 اثرات چند دنوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر تکلیف دہ اثرات برداشت کے قابل ہوں تو دوا بند نہ کریں۔ لیکن اگر یہ ناقابل برداشت ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے فورا مشورہ کریں۔اگر آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگے تو اپنے ڈاکٹر کو بتانا ضروری ہے تا کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ یہ دوا آپ کے لیے مناسب ہے کہ نہیں۔اگر آپ کی بے چینی یا گھبراہٹ بڑھ رہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔

  •    دوا روزانہ لیں۔ اگر آپ دوا روزانہ نہیں لیں گے تو آپ کو اس کا فائدہ بھی نہیں ہو گا۔
  • دوا کا فائدہ شروع ہونے کا انتظار کریں۔ یہ دوائیں پہلی خوراک لیتے ہی کام شروع نہیں کر دیتیں۔زیادہ 

 تر لوگوں کا تجربہ یہ ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ کو شروع کرنے کے بعد ان کا فائدہ شروع ہونے میں ایک سے دو ہفتے لگتے ہیں اور مکمل فائدہ ہونے میں چھ ہفتے تک بھی لگ سکتے ہیں۔دوا جلدی بند کر دینا اکثر لوگوں میں اینٹی ڈپریسنٹ دوا کا فائدہ نہ ہونےیا فائدہ شروع ہونے کے بعد ڈپریشن واپس آ جانے کی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے۔

  • الکحل پینے سے گریز کریں۔الکحل ڈپریشن کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات 

لینے کے ساتھ الکحل پی لیں تو آپ کو سستی ہونے لگے گی اور نیند آنے لگے گی۔ اس سے گاڑی چلانے میں یا کوئی اور ایسا کام کرنے میں جس میں توجہ دینے کی ضرورت ہو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  • دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
  • کیا  آپ کو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی زندگی کو ختم کرنے کے لیے دوائیں زیادہ مقدار میں

لے لینے کے خیالات آتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اپنے ڈاکٹر کو فورا بتائیں اوراپنی  دوائیں اپنے پاس رکھنے کے بجائے گھر میں کسی اور شخص کے حوالے کردیں۔

  •  دوا کا ڈوز بدلنے کے بعد اگر آپ کو اپنے آپ کے اندر کوئی بڑی تبدیلی محسوس ہو  تو اپنے ڈاکٹر 

 

 کوضرور بتائیں۔

مجھے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کتنے عرصے کے لیے لینی پڑے گی؟

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ڈپریشن کو جڑ سے نہیں ختم کرتیں یا ڈپریشن ہونے کی وجہ کو نہیں دور کرتیں۔ اگر کوئی دوا نہ بھی دی جائے تو اکثر لوگوں میں ڈپریشن تقریبا آٹھ مہینے کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔اگر آپ دوا شروع کرنے کے بعد آٹھ نو مہینوں سے پہلے بند کردیں گے تو تو ڈپریشن کی علامات واپس آنے کا کافی زیادہ خطرہ ہوگا۔ جہاں سے آپ دوبارہ صحیح محسوس کرنا شروع کریں اس وقت سے کم از کم مزید چھ مہینوں تک دوا جاری رکھنی چاہیے۔ اگر آپ کو ڈپریشن دو یا اس سے بھی زیادہ دفعہ ہو چکا ہے تو علاج کم از کم دو سال تک جاری رہنا چاہیے۔

 

اس بات پر غور کریں کہ آپ کا ڈپریشن شروع ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ایسے اقدامات کر پائیں جن کی وجہ سے ڈپریشن دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو جائے۔

 

اگر مجھے دوبارہ ڈپریشن ہو جائے تو؟

بعض لوگوں کو ڈپریشن بار بار ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بالکل ٹھیک ہونے کے بعد بھی انھیں کئی سال تک دوا لینے کی ضرورت ہو تا کہ ان کا ڈپریشن واپس نہ آ جائے۔بڑی عمر کے لوگوں میں کئی کئی بار ڈپریشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔بعض لوگوں کوڈپریشن کو واپس آنے سے روکنے کے لیے اور دواؤں مثلا لیتھیم  کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ باتوں کے ذریعے علاج (سائیکو تھراپی) بھی اس سلسلے میں سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

 

میری زندگی پہ ان دوائیوں کو لینے سے کیا اثر پڑے گا؟

ڈپریشن کی بیماری کافی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس سے انسان کے کام کرنے کی استطاعت اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت بہت حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آپ کو جلدی ٹھیک ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔تھوڑے بہت تکلیف دہ اثرات کے علاوہ ان کا زندگی پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ ان دواؤں کو لینے کے ساتھ ساتھ اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں، لوگوں سے ملنا جلنا بھی رکھ سکتے ہیں اور زندگی کی تمام خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

 

اگر میں ان دواؤں کو نہ استعمال کروں تو کیا ہوگا؟

یہ کہنا مشکل ہے۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ڈاکٹر نے آپ کے لیے اینٹی ڈپریسنٹ دوا کیوں تجویز کی ہے، آپ کا ڈپریشن کتنا شدید ہے اور کتنے عرصے سے ہے۔زیادہ تر لوگوں کا ڈپریشن اگر وہ کوئی دوا نہ بھی لیں تو تقریبا آٹھ مہینے کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کا ڈپریشن ہلکے درجے کا ہو تو ہو سکتا ہے کہ دوا کے علاوہ علاج سے ٹھیک ہو جائے۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

 

دوا کے علاوہ ڈپریشن کے اور کیا علاج موجود ہیں؟

یہ معلوم کرنا ضروری ہے  کہ آپ کن باتوں یا چیزوں سے بہتر محسوس کرتے ہیں تا کہ آپ کو آئندہ ڈپریشن ہونے کا خطرہ کم ہو سکے۔ کسی بااعتماد شخص سے بات کرنے سے، باقاعدگی سے ورزش کرنے سے، الکحل کم پینے سے، مناسب غذا کھانے سے، اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت اپنے آپ کو پرسکون کرنے کے طریقوں سے اور اپنے مسائل کو حل کرنے سے جن کی وجہ سے ڈپریشن شروع ہوا ہو، آئندہ ڈپریشن نہ ہونے میں مدد ملتی ہے۔

 

باتوں کے ذریعے علاج

ڈپریشن کا باتوں کےذریعے علاج کرنے کے کئی موثر طریقے موجود ہیں۔ ہلکے درجے کے ڈپریشن میں کونسلنگ کارآمد ہوتی ہے۔ اگر ڈپریشن زندگی کے مسائل کی وجہ سے شروع ہوا ہو تو مسائل کو حل کرنے کے طریقہ علاج (پرابلم سولونگ تھراپی) سے مدد ملتی ہے۔کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی ڈپریشن کا علاج کرنے کے لیےشروع کی گئی تھی اور اس سے انسان کو اپنے بارے میں، دنیا کے بارے میں اوردوسرے لوگوں کے بارے میں اپنے خیالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

 

اینٹی ڈپریسنٹ دوا زیادہ موثر ہے یا یہ دوسرے علاج؟

حالیہ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ ایک سال کے عرصے کے اوپر باتوں کے ذریعے علاج کے کئی طریقے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات جتنے ہی موثر ہیں۔ ادویات کا فائدہ زیادہ جلدی ہوتا ہے۔ بعض ریسرچ کہتی ہے کہ بیک وقت  اینٹی ڈپریسنٹ اور سائیکو تھراپی دونوں کے استعمال سےمریض کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

 

یہ کتابچہ ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک)،  ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹری، آغا خان یونیورسٹی کراچی، نے مرتب کیا ہے

www.aku.edu/medicalcollege/psychiatry/public_education.shtml


RCPsych logoProduced by the RCPsych Public Education Editorial Board. Series Editor: Dr Philip Timms. Translated by: Dr Noor Elahi, Mt Justice (Rt) Fazal Elahi Khan & Mr Khaliq Dad Umeed. Original version updated: Dec 2008. Translation updated: April 2009

© [2009] Royal College of Psychiatrists. You can link to, download, print, photocopy and distribute this leaflet free of charge. But you must not change it or repost it on a website.

 

For a catalogue of materials or copies of our leaflets contact: Leaflets Department, The Royal College of Psychiatrists, 17 Belgrave Square, London SW1X 8PG, Telephone: 020 7235 2351 x259.  Charity registration number 228636 

This page maintained by Dr Syed Ahmer MRCPsych & Mr Muhammad Zaman Khan MA. Dept of Psychiatry, Aga Khan University, Karachi.  If you have suggestions for this section, please email us at: webmaster@rcpsych.ac.uk